منگلورو :16؍ جنوری (ایس اؤ نیوز)مرکز کی بی جے پی حکومت دستور مخالف قوانین کو نافذ کرنے کی جلدبازی میں ہونےکے باوجود ملک کانوجوان خاص کر طلبا برادری اس سیاہ قانون کے خلاف سینہ تانے کھڑ ی ہے، جو ملک گیر سطح پر ایک جدوجہد کا روپ اختیار کرچکی ہے، مرکزی حکومت سیاہ قوانین کو واپس لینے تک یہ جدوجہد جاری رکھنے کا ’ ہم بھارتی لوگ‘ ٹیم کے ممبر ریٹائرڈ آئی اے ایس آفیسر کنن گوپی ناتھن نے اعلان کیا۔
مرکزی حکومت کے سیاہ قانو ن سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دکشن کنڑا اور اُڈپی اضلاع کی دی مسلم سنٹرل کمیٹی کی قیادت میں مساوی اذہان کی تنظیموں کے اشتراک سے اڈیار کنور میدان میں منعقدہ احتجاجی اجلاس میں شریک جمِ غفیر سے وہ خطاب کررہے تھے۔انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت اس زعم میں تھی کہ ہم کچھ بھی کریں عوا م ہم سے سوال نہیں کریں گے، اسی لئے وزیر اعظم مودی نے کالے دھن کے نام پر نوٹ بندی کی، اس کے بعد جی ایس ٹی جاری کی، کشمیر میں 370 کی دفعہ کو ختم کیا۔ انہیں اعتماد تھا کہ لوگ ڈر کے مارے گھروں میں ہی رہیں گے۔ کنن نےکہاکہ ایک حد تک آپ لوگوں کو ڈرا سکتے ہیں، مگر جب لوگ سوال پوچھنے اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا شروع کئے تو وزیرا عظم مودی نے این آر سی کے متعلق جھوٹے بیانات دینا شروع کئے۔
’’چلتی ہوئی سواریوں کے پیچھے کتے دوڑتے ہیں، جب سواری رک جاتی ہے تو کتے بھی رک جاتے ہیں، آگے کیا کرنا ہے ان کتوں کو پتہ نہیں ہوتاہے ۔ اس وقت مرکزی حکومت کی بد انتظامی بھی کچھ اسی طرح کی ہوگئی ہے۔ بغیر کسی سوچ بچار کے ایک ایک پالیسی جاری کی ، اس کے نفع و نقصان کا مرکزی حکومت کو رتی برابر شعور نہیں ہے۔ نوٹ بندی کی، جی ایس ٹی جاری کی، کشمیر میں دفعہ 370کو ختم کیا۔ اب اسی اے اے اور این آر سی جاری کرنے کی کوشش میں ہے۔ جس کے خلاف اٹھنے والی صد ا آسمان کو چھو رہی ہے۔ اب پھر مرکزی حکومت آگے کیا کرنا سمجھ نہیں پارہی ہے۔ کل ملا کر مرکزی حکومت کی حالت سواریوں کے پیچھے دوڑنے والے کتوں کی جیسی ہونے کا کنن گوپی ناتھن نے خیال ظاہر کیا‘‘۔
جلسے سے انسانی حقوق کے جہدکار شیو سندر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وندے ماترم اور اللہ اکبر کے نعروں سے ملک کی آزادی ہم نے لڑی تھی ۔ لیکن آزادی کے خلاف سازش کرنے والوں کی نسل ملک حفاظت کے بہانے گھر مالکوں سے تم کون ہو کا سوال کررہی ہے۔مجاہدین آزادی کو سازشی لوگ سوال کررہے ہیں اور جھوٹ ہی ان کا مضبوط سہاراہوگیا ہے۔اسرائیل میں یہودی جیسا کرتے ہیں ویسا مودی اور شاہ کی جوڑی کرنے چلی ہے، اس کو قطعی موقع نہیں دینے کا شیوسندر نے اعلان کیا۔ اس موقع پر احتجاج کی حمایت کردہ کئی تنظیموں کے ذمہ داران نےبھی مختصر اظہار خیال کیا۔ کئی سیاسی پارٹی کے لیڈران بھی احتجا ج میں شریک تھے۔